الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن أبي داود / كتاب الصلاة / الحديث 828
سنن أبي داود
الحديث 828 — كتاب الصلاة
الكتاب 2 · Prayer (Kitab Al-Salat)
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، - الْمَعْنَى - عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَرَأَ خَلْفَهُ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ " أَيُّكُمْ قَرَأَ " . قَالُوا رَجُلٌ . قَالَ " قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ أَلَيْسَ قَوْلُ سَعِيدٍ أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ قَالَ ذَاكَ إِذَا جَهَرَ بِهِ . وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ قُلْتُ لِقَتَادَةَ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ . قَالَ لَوْ كَرِهَهُ نَهَى عَنْهُ .
صحيح · Al-Albaniصحيح · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamidصحيح · Shuaib Al ArnautSahih Muslim (398) · Zubair Ali Zai
سنن أبي داود › كتاب الصلاة › الحديث 828
الترجمة الإنجليزية
Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet (ﷺ) led (us) in the noon prayer, and a man came and recited behind him "Glorify the name of thy Lord, the Most High" (Surah 87). When he finished (the prayer), he said: Which of you recited? They (the people) said: A man (recited). He said: I knew that some one of you confused me in it (in the recitation of the Qur'an). Abu Dawud said: Abu al-Walid said in his version: Shu'bah said: I asked Qatadah: Did Sa'id not say: Listen attentively to the Qur'an? He replied: (Yes), but that applies to prayer in which it (the Qur'an) is recited aloud. Ibn Kathir said in his version: I said to Qatadah: Perhaps he (the Prophet) disliked it (recitation). He said: If he had disliked it, he would have prohibited it
الترجمة الأردية
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی تو ایک شخص آیا اور اس نے آپ کے پیچھے «سبح اسم ربك الأعلى» کی قرآت کی، جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: تم میں کس نے قرآت کی ہے؟ ، لوگوں نے کہا: ایک شخص نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے مجھے اشتباہ میں ڈال دیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالولید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا تو میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا سعید کا یہ کہنا نہیں ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم خاموش رہو؟ انہوں نے کہا: یہ حکم اس وقت ہے، جب قرآت جہر سے ہو۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے کہا: گویا آپ نے اسے ناپسند کیا تو انہوں نے کہا: اگر آپ کو یہ ناپسند ہوتا، تو آپ اس سے منع فرما دیتے ۱؎۔