العربية English اردو Français Español Deutsch Русский 中文
اكتشف الإسلامDiscover Islam

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن أبي داود / كتاب الصلاة / الحديث 514

سنن أبي داود

الحديث 514 — كتاب الصلاة

الكتاب 2 · Prayer (Kitab Al-Salat)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، - يَعْنِي الإِفْرِيقِيَّ - أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، قَالَ لَمَّا كَانَ أَوَّلُ أَذَانِ الصُّبْحِ أَمَرَنِي - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - فَأَذَّنْتُ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أُقِيمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَشْرِقِ إِلَى الْفَجْرِ فَيَقُولُ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ نَزَلَ فَبَرَزَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَىَّ وَقَدْ تَلاَحَقَ أَصْحَابُهُ - يَعْنِي فَتَوَضَّأَ - فَأَرَادَ بِلاَلٌ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ هُوَ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَقَمْتُ ‏.‏
ضعيف · Al-Albaniضعيف · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamidضعيف · Shuaib Al Arnautضعيف · Zubair Ali Zai

سنن أبي داود › كتاب الصلاة › الحديث 514

الترجمة الإنجليزية
Narrated Ziyad ibn al-Harith as-Suda'i: When the adhan for the dawn prayer was initially introduced, the Prophet (ﷺ) commanded me to call the adhan and I did so. Then I began to ask: Should I utter iqamah, Messenger of Allah? But he began to look at the direction of the east, (waiting) for the break of dawn, and said: No. When the dawn broke, he came down and performed ablution and he then turned to me. In the meantime his Companions joined him. Then Bilal wanted to utter the iqamah, but the Prophet (ﷺ) said to him: The man of Suda' has called the adhan, and he who calls the adhan utters the iqamah
الترجمة الأردية
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب صبح کی پہلی اذان کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( اذان دینے کا ) حکم دیا تو میں نے اذان کہی، پھر میں کہنے لگا: اللہ کے رسول! اقامت کہوں؟ تو آپ مشرق کی طرف فجر کی روشنی دیکھنے لگے اور فرما رہے تھے: ابھی نہیں ( جب تک طلوع فجر نہ ہو جائے ) ، یہاں تک کہ جب فجر طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور وضو کیا، پھر میری طرف واپس پلٹے اور صحابہ کرام اکھٹا ہو گئے، تو بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: صدائی نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی تکبیر کہے ۔ زیاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے تکبیر کہی۔
‹ السابق124 / 770التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا