العربية English اردو Français Español Deutsch Русский 中文
اكتشف الإسلامDiscover Islam

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن أبي داود / كتاب الفرائض / الحديث 2900

سنن أبي داود

الحديث 2900 — كتاب الفرائض

الكتاب 19 · Shares of Inheritance (Kitab Al-Fara'id)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، - فِي آخَرِينَ - قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ، - يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ - عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ الْكِنْدِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَىَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لاَ مَوْلَى لَهُ أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لاَ مَوْلَى لَهُ يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَائِذٍ عَنِ الْمِقْدَامِ وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَاشِدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَقُولُ الضَّيْعَةُ مَعْنَاهُ عِيَالٌ ‏.‏
Hasan Sahih · Al-AlbaniHasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamidحسن · Shuaib Al Arnautحسن · Zubair Ali Zai

سنن أبي داود › كتاب الفرائض › الحديث 2900

الترجمة الإنجليزية
Narrated Al-Miqdam al-Kindi: The Prophet (ﷺ) said: I am nearer to every believer than himself, so if anyone leaves a debt or a helpless family, I shall be responsible, but if anyone leaves property, it goes to his heirs. I am patron of him who has none, inheriting his property and freeing him from his liabilities. A maternal uncle is patron of him who has none, inheriting his property and freeing him from his liabilities. Abu Dawud said: da'iah means dependants or helpless family. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Zubaidi from Rashid b. Sa'd from Ibn 'A'idh on the authority of al-Miqdam. It has also been transmitted by Mu'awiyah b. Salih from Rashid who said: I heard al-Miqdam (say)
الترجمة الأردية
مقدام کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مسلمان سے اس کی ذات کی نسبت قریب تر ہوں، جو کوئی اپنے ذمہ قرض چھوڑ جائے یا عیال چھوڑ جائے تو اس کا قرض ادا کرنا یا اس کے عیال کی پرورش کرنا میرے ذمہ ہے، اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے، اور جس کا کوئی والی نہیں اس کا والی میں ہوں، میں اس کے مال کا وارث ہوں گا، اور میں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا، اور جس کا کوئی والی نہیں، اس کا ماموں اس کا والی ہے ( یہ ) اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو زبیدی نے راشد بن سعد سے، راشد نے ابن عائذ سے، ابن عائذ نے مقدام سے روایت کیا ہے اور اسے معاویہ بن صالح نے راشد سے روایت کیا ہے اس میں «عن المقدام» کے بجائے «سمعت المقدام» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «ضيعة» کے معنی «عیال» کے ہیں۔
‹ السابق16 / 43التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا