Español English العربية اردو Français Deutsch Русский 中文
Descubre el IslamDiscover Islam

Inicio / Biblioteca del Hadiz / Sahih Muslim / Libro 15: The Book of Pilgrimage / Hadiz 3009

Sahih Muslim

Hadiz 3009 — Libro 15: The Book of Pilgrimage

كتاب الحج

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الأَرْضِ وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرً وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الأَثَرْ وَانْسَلَخَ صَفَرْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ ‏.‏ فَقَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الْحِلِّ قَالَ ‏ "‏ الْحِلُّ كُلُّهُ ‏"‏ ‏.‏

Sahih Muslim › Libro 15: The Book of Pilgrimage › Hadiz 3009

Traducción al inglés
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that they (the Arabs of pre-Islamic days) looked upon Umra during the months of Hajj as the greatest of sins on the earth. So they intercalated the month of Muharram for Safar and said:When the backs of their camels would become all right and traces (if the pilgrims) would be effaced (from the paths) and the month of Safar would be over, then Umra would be permissible for one who wants to perform it. When Allah's Apostle (ﷺ) and his Companions came in the state of Ihram for performing Hajj on the fourth (of Dhu'l-Hijja) he (Allah's Apostle) commanded them to change their state of Ihram (from Hajj) to that of 'Umra. It was something inconceivable for them. So they said: Messenger of Allah, is it a complete freedom (of the obligation) of Ihram? Thereupon he said: It is a complete freedom (from Ihram)
Traducción al urdu
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد طاوس بن کیسان سے ، انھوں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : ( جاہلیت میں ) لوگوں کا خیال تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ، زمین میں سب سے براکام ہے ۔ اور وہ لوگ محرم کے مہینے کو صفر بنا لیا کرتے تھے ، اور کہا کرتے تھے : جب ( اونٹوں کا ) پیٹھ کا زخم مندمل ہوجائے ، ( مسافروں کا ) نشان ( قدم ) مٹ جائے اورصفر ( اصل میں محر م ) گزر جائے تو عمرہ والے کے لئے عمرہ کرناجائز ہے ۔ ( حالانکہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ا اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ چار ذوالحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ پہنچے ، اور ان ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ اپنے حج ( کی نیت ) کو عمرے میں بدل دیں ، یہ بات ان ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) پر بڑی گراں تھی ، سب نے بیک زبان کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ کیسی حلت ( احرام کا خاتمہ ) ہوگی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مکمل حلت ۔
‹ Anterior214 / 583Siguiente ›

Leer el libro completo