العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
English

Home / Hadith Library / Muwatta Malik / Book 27: Fara'id / Hadith 1081

Muwatta Malik

Hadith 1081 — Book 27: Fara'id

كتاب الفرائض

Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amribn Hazm that Abdar-Rahman ibn Hanthala az-Zurqi was informed by a mawla of Quraysh,who used to be known as Ibn Mursi, that he was sitting with Umar ibn al-Khattab, and when they had prayed dhuhr, he said, "Yarfa! Bring that letter! (a letter which he had written about the paternal aunt.) We asked about her and asked for information about her." Yarfa brought it to him. He called for a small vessel or a drinking-bowl in which there was water. He erased the letter in it. Then he said, "Had Allah approved of you as an heir, we would have confirmed you. Had Allah approved of you, we would have confirmed you
Mauquf Daif · Salim al-Hilali

Muwatta Malik › Book 27: Fara'id › Hadith 1081

Arabic original
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ مَوْلًى، لِقُرَيْشٍ كَانَ قَدِيمًا يُقَالُ لَهُ ابْنُ مِرْسَى أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ قَالَ يَا يَرْفَا هَلُمَّ ذَلِكَ الْكِتَابَ - لِكِتَابٍ كَتَبَهُ فِي شَأْنِ الْعَمَّةِ - فَنَسْأَلَ عَنْهَا وَنَسْتَخْبِرَ فِيهَا ‏.‏ فَأَتَاهُ بِهِ يَرْفَا فَدَعَا بِتَوْرٍ أَوْ قَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَمَحَا ذَلِكَ الْكِتَابَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ لَوْ رَضِيَكِ اللَّهُ وَارِثَةً أَقَرَّكِ لَوْ رَضِيَكِ اللَّهُ أَقَرَّكِ ‏.‏
Urdu translation
ایک مولیٰ سے قریش کے روایت ہے کہ جس کو ابن موسیٰ کہتے تھے کہا کہ میں بیٹھا تھا عمر بن خطاب کے پاس انہوں نے ظہر کی نماز پڑھ کر یرفا (حضرت عمر کے غلام) سے کہا میری کتاب لے آنا وہ کتاب جو انہوں نے لکھی تھی پھوپھی کی میراث کے بارے ، میں نے اپنی رائے سے پھوپھی کے واسطے میراث تجویز کی تھی اس قیاس سے کہ پھوپھی کا وارث بھتیجا ہوتا ہے وہ بھی اس کی وارث ہوگی انہوں نے کتاب منگوائی کہ ہم لوگوں سے پوچھیں اور مشورہ لیں پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک کڑا ہی یا پیالہ منگایا جس میں پانی تھا اور اس کتاب کو دھو ڈلا اور فرمایا اگر پھوپھی کو حصہ دلانا اللہ کو منظور ہوتا تو اپنی کتاب میں ذکر فرماتا۔
‹ Previous8 / 16Next ›

Read the full book