العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
English

Home / Hadith Library / Muwatta Malik / Book 14: The Qibla / Hadith 457

Muwatta Malik

Hadith 457 — Book 14: The Qibla

كتاب القبلة

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Muhammad ibn Yahya ibn Habban from his paternal uncle, Wasi ibn Habban, that Abdullah ibn Umar said, "People say, 'When you sit to relieve yourself, do not face the qibla or the Bayt al-Maqdis.' " Abdullah continued, "I went upon top of a house of ours and saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, (squatting) on two unfired bricks facing the Bayt al-Maqdis, relieving himself." Ibn Umar added, "Perhaps you are one of those who pray folded on their haunches." Wasi replied, "I don't know, by Allah
Sahih · Salim al-Hilali

Muwatta Malik › Book 14: The Qibla › Hadith 457

Arabic original
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ إِذَا قَعَدْتَ عَلَى حَاجَتِكَ فَلاَ تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ قَالَ لَعَلَّكَ مِنَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لاَ أَدْرِي وَاللَّهِ ‏.‏
Urdu translation
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے بعض لوگ سمجھتے ہیں جب تو اپنی حاجت کو جائے تو منہ نہ کر قبلہ اور بیت المقدس کی طرف عبداللہ بن عمر نے کہا میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو اینٹوں پر حاجت ادا کر رہے ہیں منہ ان کا بیت المقدس کی طرف ہے پھر کہا عبداللہ بن عمر نے واسع بن حبان سے شاید تو ان لوگوں میں سے ہے جو اپنی سرینوں پر نماز پڑھتے ہیں واسع نے کہا میں نہیں سمجھا کہا مالک نے اس قول کی تفسیر میں وہ لوگ ہیں جو سجدہ میں زمین سے لگ جاتے ہیں اور اپنی پیٹھ کو سرین سے جدا نہیں رکھتے ۔
‹ Previous3 / 15Next ›

Read the full book