العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
English

Home / Hadith Library / Jami' al-Tirmidhi / Book 39: The Book on the Description of Hellfire / Hadith 2575

Jami' al-Tirmidhi

Hadith 2575 — Book 39: The Book on the Description of Hellfire

كتاب صفة النار

Al-Hasan said:"While he was on the pulpit – the pulpit of Al-Basrah – `Utbah bin Ghazwain narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “Indeed a giant rock can be thrown from the brink of Hell and it will continue to fall into it for seventy years without reaching the bottom of it.”.He said: “`Umar used to say:'Increase in your remembrance of the Fire, for its heat is extreme, its bottom is distant, and its whips are of Iron.'” (Sahih)
Sahih · Ahmad Muhammad ShakirSahih · Al-AlbaniSahih · Zubair Ali Zai

Jami' al-Tirmidhi › Book 39: The Book on the Description of Hellfire › Hadith 2575

Arabic original
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ قَالَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الصَّخْرَةَ الْعَظِيمَةَ لَتُلْقَى مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَتَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا وَمَا تُفْضِي إِلَى قَرَارِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ أَكْثِرُوا ذِكْرَ النَّارِ فَإِنَّ حَرَّهَا شَدِيدٌ وَإِنَّ قَعْرَهَا بَعِيدٌ وَإِنَّ مَقَامِعَهَا حَدِيدٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى لاَ نَعْرِفُ لِلْحَسَنِ سَمَاعًا مِنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ وَإِنَّمَا قَدِمَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ الْبَصْرَةَ فِي زَمَنِ عُمَرَ وَوُلِدَ الْحَسَنُ لِسَنَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ ‏.‏
Urdu translation
حسن بصری کہتے ہیں کہ عتبہ بن غزوان رضی الله عنہ نے ہمارے اس بصرہ کے منبر پر بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ایک بڑا بھاری پتھر جہنم کے کنارہ سے ڈالا جائے تو وہ ستر برس تک اس میں گرتا جائے گا پھر بھی اس کی تہہ تک نہیں پہنچے گا۔ عتبہ کہتے ہیں: عمر رضی الله عنہ کہا کرتے تھے: جہنم کو کثرت یاد کرو، اس لیے کہ اس کی گرمی بہت سخت ہے۔ اس کی گہرائی بہت زیادہ ہے اور اس کے آنکس ( آنکڑے ) لوہے کے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم عتبہ بن غزوان سے حسن بصری کا سماع نہیں جانتے ہیں، عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت میں عتبہ بن غزوان رضی الله عنہ بصرہ آئے تھے، اور حسن بصری کی ولادت اس وقت ہوئی جب عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت کے دو سال باقی تھے۔
‹ Previous3 / 34Next ›

Read the full book