English العربية اردو Français Español Deutsch Русский 中文
Discover IslamDiscover Islam

Home / Hadith Library / Sahih al-Bukhari / Book 91: Interpretation of Dreams / Hadith 7008

Sahih al-Bukhari

Hadith 7008 — Book 91: Interpretation of Dreams

كتاب تعبير الرؤيا

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, some people were displayed before me (in a dream). They were wearing shirts, some of which were merely covering their breasts, and some a bit longer. Then there passed before me, `Umar bin Al-Khattab wearing a shirt he was dragging it (on the ground behind him.)" They (the people) asked, "What have you interpreted (about the dream) O Allah's Apostle?" He said, "The Religion

Sahih al-Bukhari › Book 91: Interpretation of Dreams › Hadith 7008

Arabic original
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَىَّ، وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْىَ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، وَمَرَّ عَلَىَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا مَا أَوَّلْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الدِّينَ ‏"‏‏.‏
Urdu translation
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوامامہ بن سہل نے بیان کیا، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں۔ ان میں بعض کی قمیص تو صرف سینے تک کی ہے اور بعض کی اس سے بڑی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کی قمیص زمین سے گھسٹ رہی تھی۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین۔
‹ Previous26 / 61Next ›

Read the full book