English العربية اردو Français Español Deutsch Русский 中文
Discover IslamDiscover Islam

Home / Hadith Library / Sunan an-Nasa'i / Book 21: The Book of Funerals / Hadith 1934

Sunan an-Nasa'i

Hadith 1934 — Book 21: The Book of Funerals

كتاب الجنائز

It was narrated that Abu Aswad Ad-Dili said:"I came to Al-Madinah and sat with 'Umar bin Al-Khattab. A funeral passed by and the deceased was praised, and 'Umar said: 'It is granted.' Then another passed by and the deceased was praised, and 'Umar Said: 'It is granted.' Then a third passed by, and the deceased was criticized, and 'Umar said: 'It is granted.' I said: What is granted, O commander of the believers?' He said: 'I said what the Messenger of Allah said: Any Muslim for whom four people bear witness and say good things, Allah will admit him to Paradise.' We said: 'Or three?' He said: 'Or three.' We said: 'Or two?' He said: 'Or two
Sahih · Abu GhuddahSahih · Al-AlbaniSahih Bukhari · Zubair Ali Zai

Sunan an-Nasa'i › Book 21: The Book of Funerals › Hadith 1934

Arabic original
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالاَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ وَجَبَتْ ‏.‏ ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ وَجَبَتْ ‏.‏ ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثِ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا شَرًّا فَقَالَ عُمَرُ وَجَبَتْ ‏.‏ فَقُلْتُ وَمَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ قَالُوا خَيْرًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا أَوْ ثَلاَثَةٌ قَالَ ‏"‏ أَوْ ثَلاَثَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا أَوِ اثْنَانِ قَالَ ‏"‏ أَوِ اثْنَانِ ‏"‏ ‏.‏
Urdu translation
ابو اسود دیلی کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی تعریف کی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی ( بھی ) تعریف کی گئی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، پھر ایک تیسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی مذمت کی گئی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، تو میں نے پوچھا: امیر المؤمنین! کیا واجب ہو گئی؟ انہوں نے کہا: میں نے وہی بات کہی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی: ”جس مسلمان کے لیے بھی چار لوگوں نے خیر کی گواہی دی تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا“، ہم نے پوچھا: ( اگر ) تین گواہی دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین ہی سہی“، ( پھر ) ہم نے پوچھا: ( اگر ) دو گواہی دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ہی سہی“۔
‹ Previous117 / 272Next ›

Read the full book