English العربية اردو Français Español Deutsch Русский 中文
Discover IslamDiscover Islam

Home / Hadith Library / Sahih Muslim / Book 45: The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinship / Hadith 6614

Sahih Muslim

Hadith 6614 — Book 45: The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinship

كتاب البر والصلة والأدب

A'isha reported that two persons visited Allah's Messenger (ﷺ) and both of them talked about a thing, of which I am not aware, but that annoyed him and he invoked curse upon both of them and hurled malediction, and when they went out I said:Allah's Messenger, the good would reach everyone but it would not reach these two. He said: Why so? I said: Because you have invoked curse and hurled malediction upon both of them. He said: Don't you know that I have made condition with my Lord saying thus: O Allah, I am a human being and that for a Muslim upon whom I invoke curse or hurl malediction make it a source of purity and reward

Sahih Muslim › Book 45: The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinship › Hadith 6614

Arabic original
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاَنِ فَكَلَّمَاهُ بِشَىْءٍ لاَ أَدْرِي مَا هُوَ فَأَغْضَبَاهُ فَلَعَنَهُمَا وَسَبَّهُمَا فَلَمَّا خَرَجَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَصَابَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا مَا أَصَابَهُ هَذَانِ قَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا قَالَ ‏"‏ أَوَمَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُ عَلَيْهِ رَبِّي قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَىُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا ‏"‏ ‏.‏
Urdu translation
جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوضحیٰ سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص آئے ، مجھے معلوم نہیں کس معاملے میں انہوں نے آپ سے گفتگو کی اور آپ کو ناراض کر دیا ، آپ نے ان پر لعنت کی اور ان دونوں کو برا کہا ، جب وہ نکل کر چلے گئے تو میں نے عرض کی : کوئی شخص بھی جسے کوئی خیر ملی ہو ( وہ ) ان دونوں کو نہیں ملی ۔ آپ نے فرمایا : " وہ کیسے؟ " کہا : میں نے عرض کی : آپ نے ان کو لعنت کی اور برا کہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہیں علم نہیں ہے میں نے اپنے رب سے کیا شرط کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا ہے : اے اللہ! میں صرف بشر ہوں ، لہذا میں جس مسلمان کو لعنت کروں یا برا کہوں تو اس ( لعنت اور برا بھلا کہنے ) کو اس کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور حصولِ اجر کا ذریعہ بنا دے ۔
‹ Previous108 / 210Next ›

Read the full book