صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / جامع ترمذی / كتاب الأحكام عن رسول الله ﷺ / حدیث 1380
جامع ترمذی
حدیث 1380 — كتاب الأحكام عن رسول الله ﷺ
کتاب 15 · The Chapters On Judgements From The Messenger of Allah
ابیض بن حمال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے جاگیر میں نمک کی کان مانگی تو آپ نے انہیں دے دی، لیکن جب وہ پیٹھ پھیر کر واپس جانے لگے تو مجلس میں موجود ایک آدمی نے عرض کیا: جانتے ہیں کہ آپ نے جاگیر میں اسے کیا دیا ہے؟ آپ نے اسے جاگیر میں ایسا پانی دیا ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا ہے۔ ( اس سے برابر نمک نکلتا رہے گا ) تو آپ نے اس سے اسے واپس لے لیا، اس نے آپ سے پوچھا: پیلو کے درختوں کی کون سی جگہ ( بطور رمنہ ) گھیری جائے؟ آپ نے فرمایا: ”جس زمین تک اونٹوں کے پاؤں نہ پہنچے“ ( جو آبادی اور چراگاہ سے کافی دور ہوں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابیض کی حدیث غریب ہے، ۲- میں نے قتیبہ سے پوچھا کیا آپ سے محمد بن یحییٰ بن قیس ماربی نے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اقرار کیا اور کہا: ہاں –
حسن · Ahmad Muhammad Shakirحسن · Al-Albaniحسن · Zubair Ali Zai
جامع ترمذی › كتاب الأحكام عن رسول الله ﷺ › حدیث 1380
اصل عربی متن
قَالَ قُلْتُ لِقُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شُرَاحِيلَ، عَنْ سُمَىِّ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ شُمَيْرٍ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ فَقَطَعَ لَهُ فَلَمَّا أَنْ وَلَّى قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ أَتَدْرِي مَا قَطَعْتَ لَهُ إِنَّمَا قَطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ . قَالَ فَانْتَزَعَهُ مِنْهُ . قَالَ وَسَأَلَهُ عَمَّا يُحْمَى مِنَ الأَرَاكِ قَالَ " مَا لَمْ تَنَلْهُ خِفَافُ الإِبِلِ " . فَأَقَرَّ بِهِ قُتَيْبَةُ وَقَالَ نَعَمْ . حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ . الْمَأْرِبُ نَاحِيَةٌ مِنَ الْيَمَنِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ وَائِلٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ فِي الْقَطَائِعِ يَرَوْنَ جَائِزًا أَنْ يُقْطِعَ الإِمَامُ لِمَنْ رَأَى ذَلِكَ .
انگریزی ترجمہ
Narrated Shumair:that Abyad bin Hammal visited the Messenger of Allah (ﷺ) who asked him to set aside a reserve of salt(a mine). So he reserved it for him. As he was turning away, a man in the gathering said: "Do you know what you reserved for him ? You merely reserved stagnant water for him." He (Shumair) said: "So he left him." He (Shumair) said: "So he asked him (the Prophet (ﷺ)) about making a private pasture of Arak (a type of tree)." He said: "As long as it is not harmed by the hooves of the camels." So I (At-Tirmidhi) recited that before Qutaibah and he said: "Yes". (Another chain) with similar meaning