اردو English العربية Français Español Deutsch Русский 中文
اکتشف الاسلامDiscover Islam

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن نسائی / كتاب الجنائز / حدیث 1978

سنن نسائی

حدیث 1978 — كتاب الجنائز

کتاب 21 · The Book of Funerals

نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نو جنازوں کی ایک ساتھ نماز پڑھی، تو مرد امام سے قریب رکھے گئے، اور عورتیں قبلہ سے قریب، ان سب عورتوں کی ایک صف بنائی، اور علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی ام کلثوم، اور ان کے بیٹے زید دونوں کا جنازہ ایک ساتھ رکھا گیا، امام اس دن سعید بن العاص تھے، اور لوگوں میں ابن عمر، ابوہریرہ، ابوسعید اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہم ( بھی موجود ) تھے، بچہ امام سے قریب رکھا گیا، تو ایک شخص نے کہا: مجھے یہ چیز ناگوار لگی، تو میں نے ابن عباس، ابوہریرہ، ابوسعید اور ابوقتادہ ( رضی اللہ عنہم ) کی طرف ( حیرت سے ) دیکھا، اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہی سنت ( نبی کا طریقہ ) ہے۔
صحیح · Abu Ghuddahصحیح · Al-AlbaniIsnaad Sahih · Zubair Ali Zai

سنن نسائی › كتاب الجنائز › حدیث 1978

اصل عربی متن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يَزْعُمُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، صَلَّى عَلَى تِسْعِ جَنَائِزَ جَمِيعًا فَجَعَلَ الرِّجَالَ يَلُونَ الإِمَامَ وَالنِّسَاءَ يَلِينَ الْقِبْلَةَ فَصَفَّهُنَّ صَفًّا وَاحِدًا وَوُضِعَتْ جَنَازَةُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَابْنٍ لَهَا يُقَالُ لَهُ زَيْدٌ وُضِعَا جَمِيعًا وَالإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ وَفِي النَّاسِ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ وَأَبُو قَتَادَةَ فَوُضِعَ الْغُلاَمُ مِمَّا يَلِي الإِمَامَ فَقَالَ رَجُلٌ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ فَنَظَرْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي قَتَادَةَ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا هِيَ السُّنَّةُ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Ibn Juraij said:"I heard Naji, claim that Ibn 'Umar offered the funeral prayer for nine together. He put the men closer to the Imam and the women closer to the Qiblah, and he placed them (the women) in one row. And the body of Umm Kulthum bint 'Ali the wife of 'Umar bin Al-Khattab, and a son of hers called Zaid were placed together. The Imam that day was Saeed bin Al-As and among the people were Ibn 'Umar, Abu Hurairah, Abu Saeed and Abu Qatadah. The boy was placed closer to the Imam. A man said something objecting to that, so I looked at Ibn 'Abbas, Abu Hurairah, Abu Saeed and Abu Qatadah and said: 'What is this?' They said: 'It is the Sunnah
‹ پچھلی161 / 272اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں