صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن نسائی / كتاب الجنائز / حدیث 1957
سنن نسائی
حدیث 1957 — كتاب الجنائز
کتاب 21 · The Book of Funerals
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور کہنے لگی: میں نے زنا کیا ہے، وہ حاملہ تھی، تو آپ نے اسے اس کے ولی کے سپرد کر دیا اور کہا: ”اسے اچھی طرح رکھو، اور جب بچہ جن دے تو میرے پاس لے کر آنا“، چنانچہ جب اس نے بچہ جن دیا تو ولی اسے لے کر آیا، تو آپ نے اسے حکم دیا، اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے، پھر آپ نے اسے رجم کیا، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟ حالانکہ وہ زنا کر چکی ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر لوگوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو ان سب کو کافی ہو جائے، اور اس سے بہتر توبہ اور کیا ہو گی کہ اس نے اللہ تعالیٰ ( کی شریعت کے پاس و لحاظ میں ) اپنی جان ( تک ) قربان کر دی“۔
صحیح · Abu Ghuddahصحیح · Al-AlbaniSahih Muslim · Zubair Ali Zai
سنن نسائی › كتاب الجنائز › حدیث 1957
اصل عربی متن
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي زَنَيْتُ وَهِيَ حُبْلَى فَدَفَعَهَا إِلَى وَلِيِّهَا فَقَالَ " أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَائْتِنِي بِهَا " . فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ رَجَمَهَا ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ فَقَالَ " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ تَوْبَةً أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
انگریزی ترجمہ
It was narrated from "Imran bin Husain that:a woman from Juhainah came to the Messenger of Allah sand said: "I have committed Zina." And she was committed Zina." And She was pregnant. He handed her over to her guardian and said: "Look after her, and when she gave birth, he brought her to him. He ordered that her garment be wrapped around her, then he offered the funeral prayer for her. 'Umar said to him: "Are you praying for her even though she committed Zina?" he said: "She has repented in a manner that, if it were to be shared among seventy of the people of Al-Madinah it would suffice them. Have you ever seen repentance better than the one who sacrificed herself for the sake of Allah, the Mighty and Sublime?