اردو English العربية Français Español Deutsch Русский 中文
اکتشف الاسلامDiscover Islam

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / صحیح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث 7414

صحیح مسلم

حدیث 7414 — كتاب الفتن وأشراط الساعة

کتاب 54 · The Book of Tribulations and Portents of the Last Hour

صالح نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" دو بارصور پھونکنے کے درمیان چالیس کا وقفہ ہوگا ۔ "" انھوں ( لوگوں ) نے کہا ۔ ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چالیس دن؟انھوں نے کہا : میں انکار کرتا ہوں ۔ لوگوں نے کہا : چالیس مہینے؟ انھوں نے کہا : میں انکار کرتا ہوں ۔ لوگوں نے کہا چالیس سال؟ انھوں نے کہا : میں انکار کرتا ہوں ۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا تو لوگ اسی طرح اگیں گے جس طرح سبزہ اگتا ہے ۔ "" انھوں نے کہا : "" اور انسان کا کوئی حصہ نہیں ، مگر وہ بوسیدہ ہوجائے گا ، سوائےایک ہڈی کے وہ دمچی کی ہڈی کا آخری حصہ ہے قیامت کے دن اسی سے خلقت کی ترکیب مکمل ہوگی ۔

صحیح مسلم › كتاب الفتن وأشراط الساعة › حدیث 7414

اصل عربی متن
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا قَالَ أَبَيْتُ ‏.‏ قَالُوا أَرْبَعُونَ شَهْرًا قَالَ أَبَيْتُ ‏.‏ قَالُوا أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ أَبَيْتُ ‏"‏ ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلَيْسَ مِنَ الإِنْسَانِ شَىْءٌ إِلاَّ يَبْلَى إِلاَّ عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Between the two blowings of the trumpet (there would be an interval of forty). They said: Abu Huraira, do you mean forty days? He said: I cannot say anything. They said: Do you mean forty months? He said: I cannot say anything. They said: Do you mean forty years? He said: I cannot say anything. Then Allah would cause the water to, descend from the sky and they (people) will sprout like vegetable. The only thing in a man which would not decay would be one bone (the tailbone) from which the whole frame would be reconstituted on the Day of Resurrection
‹ پچھلی156 / 158اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں