اردو English العربية Français Español Deutsch Русский 中文
اکتشف الاسلامDiscover Islam

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / صحیح مسلم / كتاب الصيد والذبائح / حدیث 5010

صحیح مسلم

حدیث 5010 — كتاب الصيد والذبائح

کتاب 34 · The Book of Hunting, Slaughter, and what may be Eaten

علی بن مسہر نے شیبانی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق دریافت کیا ، انھوں نے کہا : خیبر کے دن ہم بھوک کا شکار تھے ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ، ہمیں ان لوگوں ( یہودیوں ) کے گدھے شہر سے باہر نکلتے ہوئے مل گئے ۔ ہم نے ان کو ذبح کرلیا ، ہماری ہانڈیاں ( ان کے پکتے ہوئے گوشت سے ) ابل رہی تھیں کہ اچانک ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کیا : ہانڈیاں الٹ دو اور گدھوں کے گوشت میں سے کوئی چیز نہ کھاؤ ۔ میں نے پوچھا : آپ نے ان کو کیسا حرام کیا تھا ( قطعی یاغیرقطعی؟ ) انھوں نے کہا : ( اس حوالے ) سے ہماری آپس میں بات چیت ہوتی تھی تو ہ ہم ( باہم یہی کہتے کہ آپ نے ان کو قطعی طور پر حرام کیا اور اس وجہ سے ( انھیں ہمیشہ کے لئے ) حرام کیاتھا کہ ان کے پانچ حصے نہیں کیے گئے تھے ( خمس الگ نہیں کیا گیا تھا)

صحیح مسلم › كتاب الصيد والذبائح › حدیث 5010

اصل عربی متن
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أَصَبْنَا لِلْقَوْمِ حُمُرًا خَارِجَةً مِنَ الْمَدِينَةِ فَنَحَرْنَاهَا فَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ وَلاَ تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا فَقُلْتُ حَرَّمَهَا تَحْرِيمَ مَاذَا قَالَ تَحَدَّثْنَا بَيْنَنَا فَقُلْنَا حَرَّمَهَا أَلْبَتَّةَ وَحَرَّمَهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Shaibani reported:I asked 'Abdullah b. Abu Aufa about (the lawfulness or unlawfulness of) the flesh of the domestic asses. He said: We experienced hunger on the Day of Khaibar as we were with the Messenger of Allah (ﷺ). We found domestic asses in the exterior of Medina. We slaughtered them and our earthen pots were boiling when the announcer of the Messenger of Allah (ﷺ) made an announcement that the earthen pots should be turned upside down and nothing of the flesh of the domestic asses should be eaten. I said: What kind of prohibition is it that he (the Holy Prophet) has made? He said: We discussed it amongst -ourselves. Some of us aaid that it has been declared unlawful for ever, (whereas others said) it has been declared unlawful since one-fifth (of the booty) has not been given (to the treasury, as is legally required)
‹ پچھلی39 / 92اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں