صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن ابن ماجہ / كتاب الطب / حدیث 3465
سنن ابن ماجہ
حدیث 3465 — كتاب الطب
کتاب 31 · Chapters on Medicine
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ غزوہ احد کے دن کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو زخمی کیا تھا؟ اور کون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے زخموں کو دھو رہا تھا، اور ان کا علاج کر رہا تھا؟ کون تھا جو ڈھال میں پانی بھر کر لا رہا تھا؟ اور کس چیز کے ذریعے آپ کے زخم کا علاج کیا گیا، یہاں تک کہ خون تھما، ڈھال میں پانی بھر کر لانے والے علی رضی اللہ عنہ تھے، زخموں کا علاج کرنے والی فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں، جب خون نہیں رکا تو انہوں نے پرانی چٹائی کا ایک ٹکڑا جلایا، اور اس کی راکھ زخم پر لگا دی، اس طرح زخم سے خون کا بہنا بند ہوا۔
صحیح · Al-AlbaniSahih Lighairihi · Muhammad Fouad Abd al-Baqiضعیف · Shuaib Al Arnautضعیف · Zubair Ali Zai
سنن ابن ماجہ › كتاب الطب › حدیث 3465
اصل عربی متن
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ إِنِّي لأَعْرِفُ يَوْمَ أُحُدٍ مَنْ جَرَحَ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَمَنْ كَانَ يُرْقِئُ الْكَلْمَ مِنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَيُدَاوِيهِ وَمَنْ يَحْمِلُ الْمَاءَ فِي الْمِجَنِّ وَبِمَا دُووِيَ بِهِ الْكَلْمُ حَتَّى رَقَأَ . قَالَ أَمَّا مَنْ كَانَ يَحْمِلُ الْمَاءَ فِي الْمِجَنِّ فَعَلِيٌّ وَأَمَّا مَنْ كَانَ يُدَاوِي الْكَلْمَ فَفَاطِمَةُ أَحْرَقَتْ لَهُ حِينَ لَمْ يَرْقَأْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ خَلَقٍ فَوَضَعَتْ رَمَادَهُ عَلَيْهِ فَرَقَأَ الْكَلْمُ .
انگریزی ترجمہ
It was narrated from ‘Abdul-Muhaimin bin ‘Abbas bin Sahl bin Sa’d As- Sa’idi, from his father, that his grandfather said:“On the Day of Uhud, I recognized the one who wounded the face of the Messenger of Allah (ﷺ), the one who was washing the blood from the face of the Messenger of Allah (ﷺ) and treating him, and the one who was bringing the water in a shield, and with what the wound was treated until the bleeding stopped. The one who was carrying the water in the shield was ‘Ali. The one who was treating the wound was Fatimah. When the bleeding would not stop, she burned a piece of a worn out mat and applied the ashes to it (the wound), then the bleeding stopped