اردو English العربية Français Español Deutsch Русский 中文
اکتشف الاسلامDiscover Islam

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / صحیح بخاری / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث 7347

صحیح بخاری

حدیث 7347 — كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة

کتاب 96 · Holding Fast to the Qur'an and Sunnah

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عتاب بن بشیر نے خبر دی، انہیں اسحاق ابن ابی راشد نے، انہیں زہری نے، انہیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے اور فاطمہ بنت رسول اللہ علیم السلام والصلٰوۃ کے گھر ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے۔ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں پس جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے تو ہم کو اٹھا دے گا۔ جوں ہی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا تو آپ پیٹھ موڑ کر واپس جانے لگے اور کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے آپ اپنی ران پر ہاتھ مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا‏» ”اور انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے“ اگر کوئی تمہارے پاس رات میں آئے تو «طارق» کہلائے گا اور قرآن میں جو «والطارق» کا لفظ آیا ہے اس سے مراد ستارہ ہے اور «ثاقب» بمعنی چمکتا ہوا۔ عرب لوگ آگ جلانے والے سے کہتے ہیں «ثقب نارك» یعنی آگ روشن کر۔ اس سے لفظ «ثاقب» ہے۔

صحیح بخاری › كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة › حدیث 7347

اصل عربی متن
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُمْ ‏"‏ أَلاَ تُصَلُّونَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عَلِيٌّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهُ ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعَهُ وَهْوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهْوَ يَقُولُ ‏{‏وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلاً‏}‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يُقَالُ مَا أَتَاكَ لَيْلاً فَهْوَ طَارِقٌ‏.‏ وَيُقَالُ الطَّارِقُ النَّجْمُ، وَالثَّاقِبُ الْمُضِيءُ، يُقَالُ أَثْقِبْ نَارَكَ لِلْمُوقِدِ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Narrated `Ali bin Abi Talib:That Allah's Messenger (ﷺ) came to him and Fatima the daughter of Allah's Messenger (ﷺ) at their house at night and said, "Won't you pray?" `Ali replied, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Our souls are in the Hands of Allah and when he wants us to get up, He makes us get up." When `Ali said that to him, Allah's Messenger (ﷺ) left without saying anything to him. While the Prophet (ﷺ) was leaving, `Ali heard him striking his thigh (with his hand) and saying, "But man is quarrelsome more than anything else
‹ پچھلی75 / 97اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں