اردو English العربية Français Español Deutsch Русский 中文
اکتشف الاسلامDiscover Islam

صفحہ اول / حدیث کتب کی لائبریری / سنن ابی داؤد / كتاب البيوع / حدیث 3328

سنن ابی داؤد

حدیث 3328 — كتاب البيوع

کتاب 23 · Commercial Transactions (Kitab Al-Buyu)

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے قرض دار کے ساتھ لگا رہا جس کے ذمہ اس کے دس دینار تھے اس نے کہا: میں تجھ سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ تو قرض نہ ادا کر دے، یا ضامن نہ لے آ، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض دار کی ضمانت لے لی، پھر وہ اپنے وعدے کے مطابق لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: یہ سونا تجھے کہاں سے ملا؟ اس نے کہا: میں نے کان سے نکالا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ( لے جاؤ ) اس میں بھلائی نہیں ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے ( قرض کو ) خود ادا کر دیا۔
صحیح · Al-Albaniصحیح · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamidحسن · Zubair Ali Zai

سنن ابی داؤد › كتاب البيوع › حدیث 3328

اصل عربی متن
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ عَمْرٍو، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو - عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشْرَةِ دَنَانِيرَ فَقَالَ وَاللَّهِ لاَ أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ فَتَحَمَّلَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ بِقَدْرِ مَا وَعَدَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا الذَّهَبَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مِنْ مَعْدِنٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ حَاجَةَ لَنَا فِيهَا وَلَيْسَ فِيهَا خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَضَاهَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
انگریزی ترجمہ
Narrated Abdullah ibn Abbas: A man seized his debtor who owed ten dinars to him. He said to him: I swear by Allah, I shall not leave you until you pay off (my debt) to me or bring a surety. The Prophet (ﷺ) stood as a surety for him. He then brought as much (money) as he promised. The Prophet (ﷺ) asked: From where did you acquire this gold? He replied: From a mine. He said: We have no need of it; there is no good in it. Then the Messenger of Allah (ﷺ) paid (the debt) on his behalf
‹ پچھلی3 / 90اگلی ›

پوری کتاب پڑھیں